پاکستان کی جیلیں
پاکستان کی جیلیں بحران کی آخری حد پر:
بلند دیواروں کے پیچھے ایک مستقل انسانی المیہ
پنجاب کی جیلوں میں 70 ہزار سے زائد قیدی، تقریباً 72 فیصد زیرِ سماعت — گنجائش سے کہیں زیادہ آبادی، طبی سہولیات کا فقدان اور انصاف میں تاخیر نے ’’اصلاحات‘‘ کو بقا کے سوال میں بدل دیا
پارلیمنٹ، عدلیہ اور بیوروکریسی کے لیے چشم کشا سوال:
آج کے حکمران، کل کے قیدی بھی ہو سکتے ہیں — تاریخ خود کو دہرانے کی عادت رکھتی ہے
تحریر: رانا تصدق حسین
لاہور: پاکستان کی جیلوں کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے چھپا بحران ایسا بحران ہے جو اکثر پریس ریلیز کی حد سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ سرکاری زبان میں اصلاحات، بحالی، ڈیجیٹلائزیشن، اچانک معائنے، نئی بیرکس، فلاحی اقدامات، تادیبی کارروائیاں اور جدید کاری کے الفاظ مسلسل سنائی دیتے ہیں، مگر جیلوں کے اندر کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پریشان کن ہے۔
ملک بھر میں ہزاروں قیدی ایسی جیلوں میں بند ہیں جو اپنی منظور شدہ گنجائش سے کہیں زیادہ آبادی کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کے مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہیں اور جنہیں عدالتوں نے تاحال مجرم قرار نہیں دیا۔ طبی سہولیات ناکافی ہیں، جیل عملہ شدید دباؤ میں ہے، عدالتوں میں قیدیوں کی پیشی کے لیے ریاستی مشینری کے وسیع وسائل صرف ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر بچوں کے لیے درکار خصوصی انتظامات بھی ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔
یہ محض جیل انتظامیہ کا مسئلہ نہیں رہا۔
یہ پاکستان کے پورے فوجداری نظامِ انصاف میں پیوست ایک مسلسل انسانی بحران بن چکا ہے۔
اور اب پارلیمنٹ، عدلیہ اور بیوروکریسی کو ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا:
آخر اصلاح کس چیز کی ہو رہی ہے؟
اعداد و شمار بحران کی پہلی تصویر پیش کرتے ہیں
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے دستیاب جامع قومی جیل اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 128 جیلوں میں 102,026 قیدی موجود تھے جبکہ ان جیلوں کی مجموعی منظور شدہ گنجائش 65,811 تھی۔
یعنی جیلوں میں مجموعی گنجائش کے مقابلے میں آبادی تقریباً 155 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
ان قیدیوں میں 74,900 سے زائد افراد زیرِ سماعت تھے۔
سادہ الفاظ میں تقریباً ہر چار میں سے تین قیدی ایسے تھے جنہیں ابھی عدالت سے سزا نہیں ہوئی تھی۔
یہ محض اعداد نہیں۔
ہر عدد ایک انسان کی نمائندگی کرتا ہے۔
اور ریاستی تحویل میں کسی شخص کا ایک اضافی دن بھی صرف روپے پیسے کا معاملہ نہیں؛ اس کے ساتھ انسانی، قانونی اور معاشرتی قیمت بھی وابستہ ہوتی ہے۔
پنجاب: بحران کہیں زیادہ سنگین
پنجاب کے 2026 کے اعداد و شمار صورتحال کی شدت کو مزید واضح کرتے ہیں۔
صوبے میں تقریباً 45 جیلیں ہیں جن کی مجموعی گنجائش تقریباً 38 سے 39 ہزار قیدیوں کے لیے بتائی جاتی ہے، مگر جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور حالیہ رپورٹ شدہ تعداد تقریباً 70,739 تک پہنچ چکی ہے۔
ان میں تقریباً 72 فیصد زیرِ سماعت قیدی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی سطح پر جیلوں کی مجموعی گنجائش تقریباً دوگنا دباؤ برداشت کر رہی ہے۔
اور بعض انفرادی جیلوں میں صورتحال اس مجموعی اوسط سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے۔
یہ کوئی وقتی اضافہ نہیں۔
یہ ایک ساختی بحران ہے۔
جب ’’اوور کراؤڈنگ‘‘ کا مطلب سانس لینے کی جگہ کم پڑ جائے
’’جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی‘‘ ایک انتظامی اصطلاح معلوم ہوتی ہے، لیکن ایک قیدی کے لیے اس کا مطلب کہیں زیادہ بنیادی ہو سکتا ہے۔
ذاتی جگہ کا فقدان۔
ناکافی ہوا اور روشنی۔
صفائی کی سہولیات کے لیے طویل قطاریں۔
دباؤ کا شکار کچن۔
ناکافی ہسپتال بیڈز۔
اہل خانہ سے ملاقات میں مشکلات۔
محدود نقل و حرکت۔
بیماریوں کا بڑھتا خطرہ۔
قیدیوں کے درمیان تناؤ۔
اور جیل عملے پر بڑھتا ہوا دباؤ۔
کیمپ جیل لاہور کے بارے میں اسما جہانگیر لیگل ایڈ سیل کی سابقہ جائزہ رپورٹس میں بھی گنجائش سے زیادہ آبادی کے ایسے ہی اثرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
ڈسٹرکٹ جیل لاہور بھی اس وسیع مسئلے کی نمایاں مثالوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں منظور شدہ گنجائش اور حقیقی قیدیوں کی تعداد میں نمایاں فرق ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے:
آخر کتنے انسانوں کو ایک عمارت میں سمیٹنے کے بعد ریاست یہ تسلیم کرے گی کہ مسئلہ عمارت کا نہیں، پورے نظام کا ہے؟
مسئلہ صرف نئی بیرک بنانے کا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کا جواب ہر مرتبہ مزید افراد کو موجودہ نظام میں ٹھونس دینا ہونا چاہیے یا زیرِ سماعت مقدمات، ضمانت، عدالتی تاخیر اور غیر ضروری حراست کے بنیادی اسباب کو حل کرنا بھی ضروری ہے؟
کیمپ جیل: بحالی کا تصور یا گنجائش کے بحران کا سایہ؟
کیمپ جیل لاہور کے جووینائل سیکشن کو اصلاح اور بحالی کے تصور کے تحت تیار کیا گیا تھا۔
تعلیم۔
کمپیوٹر تربیت۔
فنی مہارتیں۔
سلائی۔
دستکاری۔
بجلی سے متعلق کام۔
یہ تمام عناصر جدید اصلاحی نظام کے بنیادی اجزا تصور کیے جاتے ہیں۔
لیکن 2025 میں رپورٹ ہونے والے ایک معائنے کے دوران وہاں 42 کم عمر افراد زیرِ حراست پائے گئے اور بتایا گیا کہ ان میں سے ہر ایک زیرِ سماعت تھا۔
لیگل ایڈ ٹیم نے ان میں سے 18 بچوں سے انٹرویو کیا اور تمام نے قانونی نمائندگی کی ضرورت ظاہر کی۔
یہ ایک اعداد و شمار نہیں بلکہ پورے نظام کا تضاد ہے۔
ایک بچے کو ہنر سکھایا جا سکتا ہے۔
اسے کمپیوٹر سکھایا جا سکتا ہے۔
اسے تعلیم دی جا سکتی ہے۔
لیکن اگر اس کا مقدمہ طویل عرصے تک غیر فیصلہ شدہ رہے تو بحالی کا عمل اس غیر یقینی کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے۔
جس شخص کا مستقبل عدالت کے فیصلے کا منتظر ہو، اسے مؤثر طور پر بحال کرنے کے لیے عدالتی عمل کو بھی بروقت ہونا ہوگا۔
اصل مسئلہ جیل سے باہر: زیرِ سماعت قیدیوں کا بڑھتا ہوا نظام
جیلوں کے بحران کا سب سے اہم پہلو شاید جیل کے اندر نہیں بلکہ جیل سے باہر موجود ہے۔
یعنی زیرِ سماعت مقدمات کا نظام۔
جب پنجاب کی تقریباً 72 فیصد جیل آبادی زیرِ سماعت ہو تو گنجائش کا بحران لازماً ان عوامل سے جڑ جاتا ہے:
- تفتیش میں تاخیر؛
- چالان کی تکمیل میں تاخیر؛
- پراسیکیوشن کی رکاوٹیں؛
- بار بار ملتوی ہونے والی سماعتیں؛
- ضمانت کے مسائل؛
- مناسب قانونی نمائندگی کا فقدان؛
- کمزور کیس مینجمنٹ؛
- شہادت ریکارڈ ہونے میں تاخیر؛
- اور قید کے جائز متبادل طریقہ کار کا ناکافی استعمال۔
غیر ضروری حراست کا ہر اضافی دن بیک وقت تین قیمتیں پیدا کرتا ہے:
انسانی قیمت۔
عدالتی قیمت۔
مالی قیمت۔
پہلی قیمت قیدی ادا کرتا ہے۔
دوسری نظامِ انصاف۔
اور تیسری ٹیکس دہندہ۔
روزانہ 7,500 عدالتی پیشیاں: چھپا ہوا مالی اور انتظامی بوجھ
حالیہ رپورٹس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے سامنے یہ اعداد و شمار بھی آئے کہ پنجاب میں تقریباً 7,500 قیدی روزانہ عدالتوں میں پیش کیے جاتے ہیں۔
اس ایک عدد کے پیچھے ایک بہت بڑا انتظامی نظام کام کرتا ہے۔
ہزاروں قیدیوں کی منتقلی۔
ہزاروں پولیس اور جیل اہلکاروں کی تعیناتی۔
گاڑیوں کا انتظام۔
سکیورٹی۔
عدالتی عمل۔
پیشی کے بعد دوبارہ جیل واپسی۔
اور اگر مقدمہ دوبارہ ملتوی ہو جائے تو یہی عمل پھر دہرایا جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی تحقیقاتی سوال پیدا ہوتا ہے:
کتنی عدالتی پیشیاں بہتر کیس مینجمنٹ، ویڈیو لنک سہولت، تیز تر ٹرائل اور قانون کے مطابق مناسب غیر حراستی اقدامات کے ذریعے کم کی جا سکتی ہیں؟
ہر غیر ضروری پیشی صرف انتظامی زحمت نہیں۔
یہ ریاستی وسائل، سکیورٹی، وقت اور جیلوں پر اضافی دباؤ کا ایک مستقل ذریعہ ہے۔
صحت کا بحران: دوسرا ہنگامی محاذ
حالیہ رپورٹس میں پنجاب کی 70 ہزار سے زائد جیل آبادی کے لیے تقریباً 110 ڈاکٹروں کی دستیابی کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ تناسب فوری اور سنجیدہ عوامی جائزے کا متقاضی ہے۔
جیلوں سے متعلق صحت کے اعداد و شمار میں ایچ آئی وی/ایڈز، ہیپاٹائٹس، ذیابیطس، ذہنی صحت کے مسائل اور منشیات پر انحصار جیسی سنگین بیماریوں کی نشاندہی بھی سامنے آتی رہی ہے۔
گنجائش سے کہیں زیادہ آبادی ان خطرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
قیدی زیادہ ہوں تو ڈاکٹروں کی کمی زیادہ سنگین ہوجاتی ہے۔
ہسپتال کے بیڈز کم ہوں تو مسئلہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔
ادویات کم ہوں تو نتائج زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ایمبولینس کی کمی ہو تو ہنگامی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
اور متعدی بیماریوں کا خطرہ پوری جیل آبادی کے لیے بڑھ جاتا ہے۔
ریاست جب کسی شخص کو اپنی تحویل میں لیتی ہے تو اس کی جان اور صحت کی ذمہ داری بھی قبول کرتی ہے۔
یہ ذمہ داری جیل کے دروازے پر ختم نہیں ہوتی۔
خواتین اور کم عمر قیدی: وہ آبادی جسے فیصد میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا
خواتین اور کم عمر قیدیوں کو جیل کی مجموعی آبادی کے محض فیصد کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ان کے لیے خصوصی سہولیات، علیحدہ انتظامات، تربیت یافتہ عملہ اور مخصوص بحالی پروگرام درکار ہوتے ہیں۔
پنجاب میں تاریخی طور پر مخصوص خواتین جیلوں کی کمی کے باعث خواتین قیدیوں کو مختلف اداروں میں رکھا جاتا رہا ہے۔
نئی جیلیں اور ترقیاتی منصوبے یقیناً خوش آئند ہیں۔
لیکن اصل امتحان عمارت مکمل ہونے کے بعد شروع ہوگا۔
زیرِ تعمیر جیل انفراسٹرکچر ہے؛ مناسب عملے، وسائل، نظم و نسق اور انسانی ماحول کے ساتھ فعال جیل اصلاح ہے۔
یہی اصول کم عمر قیدیوں کے لیے بھی لاگو ہوتا ہے۔
نئے آئی جی جیل خانہ جات:
نیا باب یا پرانا چکر؟
پنجاب میں جولائی 2026 میں میاں سالک جلال نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ان کے اچانک معائنے اور صفائی، خوراک، صحت، سکیورٹی، قیدیوں کی فلاح اور انتظامی نظم و ضبط سے متعلق ہدایات ذمہ دارانہ جیل انتظامیہ کا ایک ضروری حصہ ہیں۔
غفلت یا بدانتظامی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی بھی ضروری ہے۔
لیکن ایک بنیادی فرق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
تادیبی کارروائی، نظامی اصلاح کا متبادل نہیں۔
ایک افسر کو معطل کرنا کسی انفرادی کوتاہی کا ازالہ ہو سکتا ہے۔
لیکن اس سے خود بخود یہ سوال حل نہیں ہوتے کہ:
کوتاہی ہوئی کیوں؟
کتنے عرصے سے ہو رہی تھی؟
کیا سابقہ معائنے میں اس کی نشاندہی ہوئی؟
کیا پہلے سے انتباہ دیا گیا تھا؟
کیا وسائل ناکافی تھے؟
نگرانی کہاں ناکام ہوئی؟
اور کیا یہی مسئلہ دوسری جیلوں میں بھی موجود ہے؟
اصل تحقیق فرد کی فائل سے آگے بڑھ کر نظام کی ساخت تک پہنچنی چاہیے۔
سپارکو پلازہ کا سوال: کیا انسانی وقار کی کوئی قومیت ہوتی ہے؟
زیرِ حراست افراد کے ساتھ ریاستی سلوک کے وسیع تناظر میں سپارکو پلازہ، گلبرگ گرینز، اسلام آباد سے متعلق حالیہ پیش رفت بھی پارلیمانی اور عدالتی توجہ کی متقاضی ہے۔
رپورٹس کے مطابق تجارتی عمارت سپارکو پلازہ کو بڑی تعداد میں غیر ملکی شہریوں کی حراست کے تناظر میں ایف آئی اے زیرِ حراست افراد کے لیے سب جیل/لاک اپ کے طور پر مختص کیا گیا۔
اس فیصلے کے پیچھے قانونی، انتظامی یا سکیورٹی وجوہات جو بھی ہوں، اور زیرِ حراست افراد پر الزامات کی نوعیت کچھ بھی ہو، ایک جائز اور بنیادی سوال بہرحال پیدا ہوتا ہے:
ایسی خصوصی یا نسبتاً مختلف حراستی سہولت کے لیے شفاف، معروضی اور قابلِ اطلاق معیار کیا ہے؟
اور دوسرا سوال اس سے بھی اہم ہے:
کیا بیرونِ ملک حراست میں لیے گئے پاکستانی شہریوں کے لیے پاکستان جس انسانی سلوک، قونصلر رسائی اور قانونی عمل کا مطالبہ کرتا ہے، وہی اصول پاکستان میں زیرِ حراست ہر شخص پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہونے چاہئیں؟
یہ سوال غیر ملکی قیدیوں کو انسانی سلوک سے محروم کرنے کا نہیں۔
بالکل نہیں۔
انسانی وقار ہر انسان کا حق ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا مناسب رہائش، طبی سہولیات، انسانی سلوک اور حراستی وقار کسی شخص کی قومیت، سفارتی حساسیت یا شناخت سے مشروط ہونا چاہیے؟
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی اپنی جیلوں میں ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار قیدی شدید گنجائش کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں، یہ تضاد عوامی جواب کا مستحق ہے۔
انسانی وقار کا پاسپورٹ نہیں ہوتا۔
اہلکار بدلتے ہیں، نظام کیوں نہیں بدلتا؟
بار بار سامنے آنے والا ایک اور تلخ منظر بھی قابلِ غور ہے۔
ایک افسر معطل ہوتا ہے۔
دوسرا افسر تعینات ہو جاتا ہے۔
نیا معائنہ ہوتا ہے۔
نئی ہدایات جاری ہوتی ہیں۔
نئی تصاویر سامنے آتی ہیں۔
نوٹیفکیشن پر نئے نام آتے ہیں۔
مگر جیلوں میں گنجائش کا بحران برقرار رہتا ہے۔
طبی سہولیات کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔
زیرِ سماعت مقدمات برقرار رہتے ہیں۔
عملے پر دباؤ برقرار رہتا ہے۔
اور ادارہ جاتی مسائل بھی برقرار رہتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ کبھی کبھی نظام انسانوں کو تبدیل کرتا ہے مگر اپنے بنیادی ڈھانچے کو نہیں۔
یہ جیل ملازمین کی مذمت نہیں۔
اس کے برعکس، متعدد جیل افسران اور وارڈرز شدید عملی دباؤ اور مشکل حالات میں فرائض انجام دیتے ہیں۔
اصل تنقید اس ادارہ جاتی میکانزم پر ہے جس میں اگر عملہ تبدیل ہو مگر مراعات، وسائل، طریقہ کار، نگرانی، ترغیبات اور احتساب کا نظام تبدیل نہ ہو تو مختلف افراد بھی بالآخر وہی نتائج پیدا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہی وہ صورتحال ہے جہاں ادارہ بظاہر متحرک نظر آتا ہے مگر بنیادی خرابی اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔
’’دودھ کی رکھوالی بلیوں کے سپرد‘‘
اس صورتحال میں مضبوط اور آزاد نگرانی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
کون آزادانہ طور پر جیلوں کی اصل آبادی کی تصدیق کرتا ہے؟
کون منظور شدہ اور حقیقی قابلِ استعمال گنجائش کی پیمائش کرتا ہے؟
کون ہوا، روشنی اور صفائی کے معیار کو جانچتا ہے؟
کون قیدیوں کی تعداد کے مقابلے میں طبی عملے کا تناسب دیکھتا ہے؟
کون طویل عرصے سے زیرِ سماعت قیدیوں کی مدتِ حراست کا جائزہ لیتا ہے؟
کون حراستی اموات کا آزادانہ تجزیہ کرتا ہے؟
کون قیدیوں کی شکایات کی تصدیق کرتا ہے؟
کون یہ دیکھتا ہے کہ سابقہ معائنے اور انکوائریوں کی سفارشات پر واقعی عمل ہوا یا نہیں؟
اور سب سے اہم:
کون صرف تازہ ترین واقعے کے بجائے اس نظامی ناکامی کی تحقیقات کرتا ہے جو بار بار ایک جیسے واقعات کو جنم دیتی ہے؟
آزادانہ نگرانی محکمہ جیل خانہ جات کے خلاف کوئی اقدام نہیں۔
یہ قیدیوں، جیل عملے اور خود ادارے کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔
ورنہ صورتحال وہی بن سکتی ہے جسے عام زبان میں کہا جاتا ہے:
دودھ کی رکھوالی بلیوں کے سپرد۔
پارلیمنٹ کو جیل کے دروازے سے آگے دیکھنا ہوگا
یہ مسئلہ صرف محکمہ داخلہ یا جیل انتظامیہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کو براہِ راست سوالات اٹھانے ہوں گے:
جیلیں گنجائش سے زیادہ کیوں چل رہی ہیں؟
اتنی بڑی تعداد میں قیدی زیرِ سماعت کیوں ہیں؟
کتنے افراد طویل مدت سے حراست میں ہیں؟
کتنے افراد قانون کے تحت ضمانت کے اہل ہو سکتے ہیں؟
پروبیشن اور پیرول کا نظام کتنا مؤثر ہے؟
روزانہ عدالتی پیشیوں پر ریاست کتنا خرچ کر رہی ہے؟
ہر سال کتنے قیدی دورانِ حراست وفات پاتے ہیں؟
کتنے قیدی سنگین متعدی بیماریوں کا شکار ہیں؟
کتنے کم عمر قیدی زیرِ سماعت ہیں؟
کتنی خواتین کو مطلوبہ خصوصی سہولیات میسر نہیں؟
اور سب سے اہم سوال:
ماضی میں سامنے آنے والی جیل اصلاحات کی سفارشات پر عملی طور پر کیا تبدیل ہوا؟
پاکستان میں رپورٹس کی کمی نہیں۔
اصل کمی قابلِ پیمائش عملدرآمد کی ہے۔
عدلیہ: ہر التوا کی ایک قیمت ہے
عدلیہ کے لیے جیلوں کا بڑھتا ہوا بحران محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی اہمیت کا حامل معاملہ بھی ہے۔
آئین کا آرٹیکل 10-A منصفانہ ٹرائل اور قانونی عمل کی ضمانت دیتا ہے۔
کسی شخص کا زیرِ حراست ہونا اسے سزا یافتہ مجرم نہیں بنا دیتا۔
جب کوئی ملزم طویل عرصے تک فیصلۂ جرم کا منتظر رہتے ہوئے جیل میں موجود رہے تو اس کے لیے حراست اور سزا کے درمیان فرق عملی طور پر کم ہوتا چلا جاتا ہے۔
اس کا حل ہر مقدمے کو جلد بازی میں نمٹانا نہیں۔
حل ہے:
مؤثر، منصفانہ اور بروقت انصاف۔
کیس مینجمنٹ ایسا ہونا چاہیے کہ عدالتی تاخیر خاموشی سے حراست کو سزا میں تبدیل نہ کر دے۔
آرام دہ دفاتر میں بیٹھے بابوؤں کے لیے بھی ایک سوال
بیوروکریسی کے لیے بھی اس بحران میں ایک واضح پیغام ہے۔
فائل سے باہر بھی ایک دنیا موجود ہے۔
جیل اصلاحات کی سمری میں بہترین زبان لکھی جا سکتی ہے۔
اجلاس میں بہترین فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
کمیٹی بہترین سفارشات دے سکتی ہے۔
مگر ان تمام الفاظ کے نیچے ایک قیدی موجود ہے جو شاید صرف ایک سوال پوچھ رہا ہو:
’’میں گھر کب جاؤں گا؟‘‘
دوسرا شاید پوچھ رہا ہو:
’’میرے مقدمے کا فیصلہ کب ہوگا؟‘‘
تیسرا شاید طبی امداد کا منتظر ہو:
’’مجھے علاج کب ملے گا؟‘‘
اور شاید سب سے بنیادی سوال:
’’کیا میں سانس لے سکتا ہوں؟‘‘
یہی وہ مقام ہے جہاں پالیسی انسانیت میں تبدیل ہوتی ہے۔
آج کا حکمران، کل کا قیدی
اقتدار میں بیٹھنے والوں کے لیے تاریخ کا ایک سبق ہمیشہ موجود رہا ہے:
اقتدار عارضی ہے، ادارے مستقل۔
آج کا وزیر کل اپوزیشن رہنما ہو سکتا ہے۔
آج کا سرکاری افسر کل خود کسی سرکاری ادارے یا عدالت کے دروازے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
آج کا طاقتور منتظم کل کسی منتظم کی مدد کا محتاج ہو سکتا ہے۔
آج کا بااثر عہدیدار کل اسی جیل کے دروازے کے دوسری جانب کھڑا ہو سکتا ہے جسے وہ آج نظر انداز کر رہا ہے۔
یہ دھمکی نہیں۔
یہ تاریخ ہے۔
اور تاریخ کو اپنے آپ کو دہرانے کی ایک عجیب عادت ہے۔
اسی لیے جیل اصلاحات کا مقصد آج کے قیدی سے انتقام نہیں ہونا چاہیے۔
مقصد ایسا نظام بنانا ہونا چاہیے جس سے کل کسی بھی شہری کو خوف محسوس نہ ہو۔
ڈیجیٹل دور میں پتھر کے زمانے کی جیل؟
پاکستان مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل گورننس، اسمارٹ پولیسنگ اور جدید عوامی انتظامیہ کی بات کر رہا ہے۔
مگر اسی ریاست کے اندر ایک قیدی اب بھی ایسی بیرک میں موجود ہو سکتا ہے جہاں مناسب ہوا، صفائی، علاج اور بروقت انصاف غیر یقینی ہو۔
یہ تضاد نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
ہم جیل کی دیواروں کے باہر ایک ڈیجیٹل ریاست تعمیر کر رہے ہیں مگر انہی دیواروں کے اندر بعض جگہیں ایسے مسائل سے دوچار ہیں جو صدیوں پرانے محسوس ہوتے ہیں۔
اسی لیے اس بحران کو صرف ’’اوور کراؤڈنگ‘‘ کہنا کافی نہیں۔
یہ ایک:
مسلسل انسانی بحران ہے۔
یہ محض انتظامی کمی نہیں۔
محض بیرکوں کی کمی نہیں۔
محض محکمہ جیل خانہ جات کا مسئلہ نہیں۔
یہ نظامِ انصاف، انتظامیہ، صحت، قانون اور ریاستی ترجیحات کا مشترکہ امتحان ہے۔
اصلاحات کا اعلان نہیں، پیمائش ہونی چاہیے
نئی جیل قیادت کی کامیابی کا معیار بھی واضح اور قابلِ پیمائش ہونا چاہیے۔
ایک مقررہ مدت کے اندر عوام کو یہ دکھائی دینا چاہیے کہ:
↓ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ آبادی
↓ زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد
↓ طویل حراست
↓ غیر ضروری عدالتی پیشیاں
↓ متعدی بیماریوں کا بوجھ
↓ حراستی اموات اور شکایات
اور اس کے ساتھ:
↑ طبی عملہ
↑ قانونی نمائندگی
↑ مقدمات کے فیصلوں کی رفتار
↑ کم عمر قیدیوں کی بحالی
↑ خواتین کے لیے خصوصی سہولیات
↑ آزادانہ نگرانی
یہی حقیقی اصلاحات ہوں گی۔
اس کے سوا محض اعلانات، معائنے، اجلاس اور نوٹیفکیشن ایک نئے دور کے نام سے پرانے چکر کو دہرا سکتے ہیں۔
آخری سوال:
کیا پاکستان واقعی تبدیلی چاہتا ہے؟
پاکستان کو کسی ایسی کمیٹی کی ضرورت نہیں جو دوبارہ یہ دریافت کرے کہ اس کی جیلیں گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی ہیں۔
ریاست یہ پہلے ہی جانتی ہے۔
کسی ایسی رپورٹ کی ضرورت نہیں جو دوبارہ یہ ثابت کرے کہ زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
یہ بھی معلوم ہے۔
کسی نئے معائنے کی ضرورت نہیں جو صرف یہ بتائے کہ گنجائش سے زیادہ قیدی صحت، سکیورٹی اور انسانی حقوق کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی معلوم ہے۔
پاکستان کو ضرورت ہے:
سیاسی عزم کی۔
عدالتی urgency اور بروقت انصاف کی۔
انتظامی جرات کی۔
آزاد نگرانی کی۔
قابلِ پیمائش اصلاحات کی۔
اور سب سے بڑھ کر ایسے نظام کی جس میں انسان کو صرف ایک قیدی نمبر نہیں سمجھا جائے۔
کیونکہ معطل اہلکار کو تبدیل کرنا، مگر اس نظام کو نہ بدلنا جس نے خرابی پیدا کی، ایسا ہی ہے جیسے:
فنکار بدل دیے جائیں مگر ٹوٹا ہوا اسٹیج وہی رکھا جائے۔
چہرے بدلتے ہیں۔
نوٹیفکیشن بدلتے ہیں۔
وردیاں بدلتی ہیں۔
عہدے بدلتے ہیں۔
مگر قیدی وہیں رہتا ہے۔
اور نظام وہی رہتا ہے۔
یہ اصل چشم کشا حقیقت ہے
پارلیمنٹ کے لیے پیغام:
قوانین بنانا کافی نہیں، انہیں مؤثر بنائیں۔
عدلیہ کے لیے پیغام:
انصاف اس وقت پہنچائیں جب تک حراست سزا میں تبدیل نہ ہو جائے۔
بیوروکریسی کے لیے پیغام:
اصلاحات کو فائلوں کی نقل و حرکت، اجلاسوں اور سمریوں سے نہ ناپیں؛ انہیں ان انسانی زندگیوں سے ناپیں جو واقعی تبدیل ہوتی ہیں۔
جیل قیادت کے لیے پیغام:
انفرادی ذمہ داری ضرور طے کریں، مگر اس نظام کی بھی تحقیقات کریں جو بار بار ایک ہی نوعیت کی ناکامیاں پیدا کر رہا ہے۔
اور ہر اس شخص کے لیے جو آج جیل کی دیواروں سے باہر آرام سے زندگی گزار رہا ہے:
یہ نہ سمجھیں کہ یہ دیوار کبھی آپ کے گرد نہیں آسکتی۔
آج آپ کے پاس اختیار ہو سکتا ہے۔
کل آپ کے پاس صرف ایک قیدی نمبر ہو سکتا ہے۔
آج آپ حکم جاری کر سکتے ہیں۔
کل آپ کسی حکم کے منتظر ہو سکتے ہیں۔
آج آپ جیل کا معائنہ کر سکتے ہیں۔
کل آپ اسی ادارے کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں جسے آپ نے کبھی نظر انداز کیا تھا۔
تاریخ یہ سبق پہلے بھی دہرا چکی ہے۔
سمجھ داری یہ ہے کہ اسے دوبارہ دہرانے کا انتظار نہ کیا جائے۔
ایک مہذب ریاست اپنی طاقت جیل کی دیواروں کی بلندی سے ثابت نہیں کرتی۔
وہ اپنی تہذیب اس بات سے ثابت کرتی ہے کہ اسے کتنے کم لوگوں کو جیل کی دیواروں کے پیچھے بھیجنے کی ضرورت پڑتی ہے—اور جو لوگ وہاں موجود ہیں، ان کے ساتھ وہ کتنی انسانیت، قانون اور وقار کے ساتھ پیش آتی ہے۔
پاکستان کی جیلوں کو مزید کاسمیٹک اصلاحات نہیں چاہئیں۔
انہیں چاہیے:
انصاف۔
جگہ۔
صحت۔
انسانی وقار۔
احتساب۔
آزاد نگرانی۔
اور ادارہ جاتی جرات۔
کیونکہ جیل نظام کی اصلاح کا بہترین وقت وہی ہے جب اقتدار میں بیٹھے لوگ ابھی جیل کی دیواروں کے باہر ہوں۔
وقت گزرنے کے بعد اصلاح صرف مشکل نہیں ہوتی
کبھی کبھی بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔