این ایچ اے500ارب أمدن کاخواب خطرے میں
دودھ کی رکھوالی پر بلیاں؟
این ایچ اے کا 500 ارب روپے سالانہ آمدن کا خواب خطرے میں؟ 440 خالی آسامیوں کا خاتمہ، 4 کروڑ 25 لاکھ 50 ہزار روپے کا آرگینوگرام کنسلٹنسی معاہدہ، اربوں روپے کے مالی سوالات اور اعلیٰ سطح پر ’’چند پسندیدہ افراد‘‘ کی تعیناتی پر سنگین سوالات
تحقیقاتی انکشاف —
رانا تصدق حسین
نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئرز، فنانس، مینجمنٹ، آئی ٹی اور مارکیٹنگ ماہرین روزگار کے منتظر، جبکہ قومی شاہراہ اتھارٹی میں خالی آسامیاں ختم کی جا رہی ہیں؛ کیا یہ حقیقی اصلاحات ہیں یا ایک کامیاب قومی ادارے کو ایک اور سرکاری شعبے کی ناکامی کی طرف دھکیلنے کا نسخہ؟
اسلام آباد — ملک میں ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئرز، فنانس ماہرین، ایم بی اے، مینجمنٹ پروفیشنلز، آئی ٹی ماہرین، اکنامسٹس اور مارکیٹنگ کے ماہرین روزگار کے مواقع کی تلاش میں ہیں، لیکن دوسری جانب وفاقی حکومت کے رائٹ سائزنگ پروگرام کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی 440 خالی آسامیوں، یعنی تقریباً 20 فیصد، کو ختم کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔
یہ معاملہ محض انتظامی نوعیت کا نہیں رہا۔
یہ معاشی، انتظامی، قومی انسانی سرمائے اور سیاسی پالیسی کا سوال بن چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت موجودہ حکومت سے یہ سوال پوچھنا ناگزیر ہے کہ اگر ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومتی ترجیح ہے تو ایک ایسے قومی ادارے میں، جسے خود حکومت آئندہ چند برسوں میں 500 ارب روپے سالانہ آمدن پیدا کرنے والا مالی طور پر خود کفیل ادارہ بنانا چاہتی ہے، ضروری پیشہ ورانہ آسامیاں ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
خالی آسامی اور غیر ضروری آسامی ایک ہی چیز نہیں
این ایچ اے کے ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 440 خالی آسامیوں کا خاتمہ تقریباً 20 فیصد رائٹ سائزنگ کے برابر ہے۔
وفاقی حکومت کی وسیع تر رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت غیر ضروری آسامیوں کے خاتمے کا اصول اپنی جگہ قابل فہم ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے:
کیا ہر خالی آسامی واقعی غیر ضروری بھی ہے؟
اگر کسی انجینئرنگ، فنانس، مینجمنٹ، کمرشل، آئی ٹی یا انتظامی پوسٹ کے فرائض آج بھی ادارے کے لیے ضروری ہیں تو محض اس بنیاد پر کہ وہ کئی برس سے خالی ہے، اسے ختم کرنا ادارے کی استعداد میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
خالی انجینئرنگ پوسٹ کا مطلب یہ نہیں کہ انجینئرنگ کا کام ختم ہو گیا۔
خالی فنانس پوسٹ کا مطلب یہ نہیں کہ مالی نگرانی غیر ضروری ہو گئی۔
خالی مینجمنٹ پوسٹ کا مطلب یہ نہیں کہ انتظامی ذمہ داریاں ختم ہو گئیں۔
خالی مارکیٹنگ یا کمرشل پوسٹ کا مطلب یہ نہیں کہ این ایچ اے کے تجارتی اثاثوں سے آمدن حاصل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
500 ارب روپے کی آمدن، مگر افرادی قوت کم؟
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے این ایچ اے کے لیے 500 ارب روپے سالانہ آمدن کا انتہائی بلند ہدف مقرر کیا ہے اور اسے ایک منافع بخش، مالی طور پر خود کفیل ادارہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
حکومتی اطلاعات کے مطابق این ایچ اے کی آپریٹنگ آمدن میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مرمت و دیکھ بھال کے اخراجات میں کمی اور ادارے کی مالی استعداد بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں۔
یہ یقیناً ایک مثبت سمت ہے۔
مگر سوال یہ ہے:
500 ارب روپے سالانہ آمدن کا ہدف کون حاصل کرے گا؟
کیا صرف نئی فائلیں، کمیٹیاں، کنسلٹنٹس اور آرگینوگرام یہ ہدف پورا کر دیں گے؟
یا اس کے لیے ایسے:
انجینئرز،
فنانس ماہرین،
کمرشل ایکسپرٹس،
آئی ٹی پروفیشنلز،
پروجیکٹ مینیجرز،
پروکیورمنٹ اسپیشلسٹس،
اثاثہ جات مینجمنٹ ماہرین
اور
پیشہ ور منتظمین
کی ضرورت بھی ہوگی جو ادارے کو عملی طور پر چلائیں؟
4 کروڑ 25 لاکھ 50 ہزار روپے کا نیا آرگینوگرام
این ایچ اے ایگزیکٹو بورڈ کے 475ویں اجلاس میں اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی کو تقریباً 4 کروڑ 25 لاکھ 50 ہزار روپے کے عوض نئے آرگینوگرام اور تنظیمی ڈھانچے کی تیاری کا کام دیا گیا، جسے SOE Act 2023 کے تناظر میں ادارہ جاتی اصلاحات کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
پیشہ ورانہ کنسلٹنسی کا حصول بذات خود قابل اعتراض نہیں۔
لیکن سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:
جب نئی تنظیمی ساخت کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو کیا اس ساخت میں ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ضروری پیشہ ورانہ مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے؟
کنسلٹنٹ آرگینوگرام بنا سکتا ہے۔
ہائی ویز نہیں چلا سکتا۔
کنسلٹنٹ رپورٹ تیار کر سکتا ہے۔
ٹول ریونیو خود وصول نہیں کر سکتا۔
کنسلٹنٹ مالی ماڈل بنا سکتا ہے۔
اربوں روپے کی مالی نگرانی خود نہیں کر سکتا۔
آخرکار ادارہ انسان ہی چلاتے ہیں۔
3 ستمبر 2025 کی رائٹ سائزنگ کمیٹی اور این ایچ اے کا مؤقف
3 ستمبر 2025 کو رائٹ سائزنگ سے متعلق ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں یہ تجویز سامنے آئی کہ این ایچ اے کے ریگولیٹری فرائض وزارت کے تحت منتقل کیے جائیں، جبکہ این ایچ اے نے NHA Act کی دفعہ 10(2)(ix) کے تحت کم از کم Right of Way (ROW) کنٹرول اپنے پاس برقرار رکھنے کا مؤقف اختیار کیا۔
یہ معاملہ محض پوسٹوں کی تعداد کم کرنے کا نہیں۔
یہ این ایچ اے اور وزارت مواصلات کے درمیان اختیارات، ذمہ داریوں اور ادارہ جاتی حدود کی ازسرنو تقسیم کا معاملہ بھی ہے۔
اصلاحات کا مقصد ادارہ کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے زیادہ مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔
پنجاب ریجن چار زونز میں تقسیم
اصلاحاتی منصوبے میں این ایچ اے کے پنجاب ریجن کو چار زونز میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے:
- ساؤتھ
- نارتھ
- سنٹرل
- لاہور
اس کے ساتھ رائٹ آف وے کے بعض امور، بالخصوص این او سی فیس، ہوٹلز، پٹرول پمپس اور دیگر تجارتی استعمال سے متعلق معاملات کو آؤٹ سورس کرنے کی سمت بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے آمدن، شفافیت اور این ایچ اے کے اثاثوں کے بہتر تجارتی استعمال میں مدد مل سکتی ہے۔
مگر اس کے لیے بھی بنیادی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں:
اثاثوں کی قدر کون متعین کرے گا؟
معاہدے کون کرے گا؟
فیس کون وصول کرے گا؟
ریکارڈ کون محفوظ کرے گا؟
آمدن کا آڈٹ کون کرے گا؟
اور مفادات کے ٹکراؤ یا پسند و ناپسند کو کون روکے گا؟
قومی شاہراہ کونسل: اصل اختیار کس کے پاس؟
این ایچ اے کی موجودہ گورننس کا سب سے حساس پہلو نیشنل ہائی وے کونسل (NHC) کا کردار ہے۔
ترمیم شدہ این ایچ اے قانون کے تحت نیشنل ہائی وے کونسل ادارے کے اعلیٰ ترین گورننس فورم کے طور پر کام کرتی ہے، جبکہ ایگزیکٹو بورڈ اپنے قانونی و انتظامی دائرہ اختیار کے تحت عملی معاملات دیکھتا ہے۔
نیشنل ہائی وے کونسل میں:
- آزاد چیئرمین؛
- سیکرٹری خزانہ؛
- سیکرٹری منصوبہ بندی؛
- سیکرٹری مواصلات؛
- چیف ایگزیکٹو آفیسر این ایچ اے؛
- اور پانچ آزاد نجی ارکان
شامل ہیں۔
کونسل کے اہم اختیارات میں پانچ سالہ منصوبوں، سالانہ مینٹیننس پلان، پالیسیوں اور بجٹ کی منظوری شامل ہے، جبکہ ایگزیکٹو بورڈ کی سفارشات اس عمل کا حصہ ہوتی ہیں۔
ایگزیکٹو بورڈ کیوں بنایا گیا؟
این ایچ اے ایگزیکٹو بورڈ کی سربراہی چیف ایگزیکٹو آفیسر کرتے ہیں اور اس میں:
پلاننگ، انجینئرنگ، ایڈڈ پراجیکٹس، پی پی پی، فنانس اور ایڈمنسٹریشن
کے متعلقہ ارکان شامل ہوتے ہیں۔
اس فورم کے ذریعے منصوبوں، اسکیموں، کنٹریکٹس اور دیگر انتظامی و تکنیکی معاملات کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔
یہ پورا ڈھانچہ اسی لیے قائم کیا گیا ہے کہ کسی ایک فرد یا غیر رسمی گروپ کے ہاتھ میں ادارے کے تمام اختیارات مرکوز نہ ہو جائیں۔
’’چند پسندیدہ افراد‘‘ کا سوال
یہیں سے موجودہ تنازعہ کا سب سے حساس پہلو سامنے آتا ہے۔
اعلیٰ سطح پر ’’چند پسندیدہ افراد‘‘ کو اہم ذمہ داریاں اور اثر و رسوخ ملنے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ معاملہ باضابطہ تقرریوں، نوٹیفکیشنز اور سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے۔
لیکن اصول واضح ہے:
این ایچ اے کے اعلیٰ ترین فورم کو ایسے افراد کے لیے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جن کی اہلیت، دیانت، کارکردگی یا سابقہ ریکارڈ پر قابل اعتماد اور ثابت شدہ سوالات موجود ہوں۔
اگر کسی شخص کے خلاف مجاز ادارے کی تحقیقات میں:
کرپشن،
بدعنوانی،
سنگین غفلت،
جان بوجھ کر عدم کارروائی،
اختیارات کے ناجائز استعمال،
مفادات کے ٹکراؤ
یا
قومی خزانے کو نقصان
ثابت ہو جائے تو محض ایک عہدے سے دوسرے عہدے پر منتقلی کو احتساب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ٹرانسفر احتساب نہیں ہوتا۔
جہاں قانون اجازت دے، ایسے ثابت شدہ معاملات میں عہدے سے ہٹانا، قانونی کارروائی اور مستقبل کی حساس سرکاری ذمہ داریوں سے نااہلی یا پابندی زیر غور آنی چاہیے۔
عبدالعلیم خان: اصلاحات کے ساتھ گورننس کا امتحان بھی
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان این ایچ اے کی موجودہ اصلاحاتی مہم کے مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے این ایچ اے کو زیادہ آمدن پیدا کرنے والا، مالی طور پر خود کفیل اور بہتر انتظامی ادارہ بنانے، رائٹ آف وے کے بہتر استعمال، مالی نظم و ضبط، آڈٹ اور بے ضابطگیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی بات کی ہے۔
یہ اہداف اپنی جگہ قابل تحسین ہیں۔
مگر:
زیرو ٹالرنس صرف بیان نہیں، ایک یکساں اصول ہونا چاہیے۔
اگر کسی افسر یا عہدیدار کے خلاف مجاز فورم پر کوئی الزام ثابت ہو تو اس کے لیے بھی وہی معیار ہونا چاہیے جو عام ملازم کے لیے ہے۔
علی شیر محسود اور اختیارات کی زنجیر
علی شیر محسود، گریڈ 22، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس نومبر 2023 سے سیکرٹری مواصلات کا اضافی/لک آفٹر چارج سنبھالے ہوئے ہیں۔
اس حیثیت سے وہ وزارت کے اہم انتظامی اور مالی معاملات میں مرکزی کردار رکھتے ہیں، جبکہ سیکرٹری مواصلات کی حیثیت سے نیشنل ہائی وے کونسل میں ایکس آفیشیو رکن بھی ہیں۔
ان کے حوالے سے ماضی میں ترقی کے معاملے میں دو مرتبہ سپرسیشن اور بعض مبینہ انٹیگریٹی سے متعلق اعتراضات کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم ایسے دعووں کو مجاز سرکاری ریکارڈ یا کسی حتمی فیصلے کی تصدیق کے بغیر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اصل سوال پھر بھی برقرار ہے:
جتنے زیادہ اختیارات ایک انتظامی سلسلے میں مرکوز ہوں، اتنے ہی مضبوط چیک اینڈ بیلنس کیوں نہ ہوں؟
’’نیب ٹیگڈ‘‘ افراد کا سوال
مختلف حلقوں کی جانب سے بعض افراد کو ’’نیب ٹیگڈ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہاں بھی صحافتی احتیاط لازم ہے۔
کسی شکایت، انکوائری یا نیب سے متعلق معاملے کا وجود خود بخود جرم ثابت نہیں کرتا۔
لیکن اگر کسی مجاز ادارے نے کسی فرد کے خلاف بدعنوانی، مالی بے ضابطگی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا سنگین بدانتظامی ثابت کر دی ہو تو پھر ایسے شخص کی حساس سرکاری عہدے پر تعیناتی یا موجودگی کی موزونیت کا سوال ضرور اٹھتا ہے۔
عوامی عہدہ صرف اختیار نہیں، عوامی اعتماد بھی ہے۔
کم تنخواہ والے ملازمین کی بے چینی
این ایچ اے کے کم تنخواہ والے ملازمین کی مبینہ بے چینی اس پوری بحث کا انسانی پہلو بھی سامنے لاتی ہے۔
ایسے ملازمین خود کو:
نظر انداز،
تحقیر کا شکار،
غیر محفوظ
اور
انتظامی طاقت کے سامنے بے بس
محسوس کرتے ہیں۔
بعض ملازمین نے غصے اور مایوسی میں بعض اعلیٰ حکام کے لیے ’’نارسیسٹ‘‘ جیسی سخت اصطلاحات بھی استعمال کی ہیں۔
یہ ایک ملازمانہ تاثر اور الزام ہے، کسی طبی یا نفسیاتی تشخیص کا متبادل نہیں۔
لیکن اصل شکایت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
گریڈ 1 کا ملازم بھی اتنا ہی باعزت انسان ہے جتنا گریڈ 22 کا افسر۔
عہدہ کسی کو تضحیک کا حق نہیں دیتا۔
اختیار کسی کو تکبر کا لائسنس نہیں دیتا۔
اور سرکاری منصب کسی کو تنقید سے بالاتر نہیں کرتا۔
’’گڈ فار نَتھنگ‘‘ کا الزام — جواب کارکردگی سے ہونا چاہیے
ناقدین نے بعض اعلیٰ حکام کے لیے ’’گڈ فار نَتھنگ‘‘ جیسے انتہائی سخت الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔
یہ سیاسی و عوامی ردعمل ہے، کوئی سرکاری یا عدالتی فیصلہ نہیں۔
اصل سوال یہ ہونا چاہیے:
کارکردگی کیا ہے؟
کیا وعدہ کیا گیا تھا؟
کیا حاصل ہوا؟
کیا ناکام ہوا؟
کتنا نقصان ہوا؟
ذمہ دار کون ہے؟
کیا کارروائی ہوئی؟
عوامی عہدے کا اصل احتساب انہی سوالات سے ہونا چاہیے۔
اربوں روپے اور احتساب کے سوالات
این ایچ اے کے موجودہ اصلاحاتی عمل کے ساتھ ساتھ مالی اور احتسابی معاملات بھی مسلسل توجہ کا مرکز ہیں۔
رپورٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق:
26.4 ارب روپے
ٹول کی مبینہ غیر وصول شدہ واجبات
16 ارب روپے
اوورلوڈنگ جرمانوں کی مبینہ غیر وصولی
تقریباً 39 ارب روپے
الیکٹرانک ٹول کلیکشن سے متعلق مبینہ خطرات
5.29 ارب روپے
مالی سال 2024-25 میں مبینہ آڈٹ بے ضابطگیاں
یہ اعداد و شمار اپنی جگہ مزید تفصیلی سرکاری تصدیق اور سیاق و سباق کے متقاضی ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ واضح کرتے ہیں کہ این ایچ اے کی مالی گورننس اصلاحات کا سب سے اہم امتحان ہے۔
M-6: 2.14 ارب روپے کے مبینہ اسکینڈل کی تحقیقات
M-6 موٹروے سے متعلق تقریباً 2.14 ارب روپے کی مبینہ اراضی حصولی بے ضابطگی کے معاملے نے بھی تشویش پیدا کی ہے
اس حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ کارروائی، نیب/ایف آئی اے سے متعلق مطالبات اور سینیٹ کی تین رکنی انکوائری کمیٹی کا ذکر سامنے آیا ہے، جبکہ پانچ افسران کی معطلی بھی رپورٹ ہوئی۔
یہ معاملات حتمی طور پر متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی فورمز ہی طے کریں گے۔
لیکن بنیادی سبق واضح ہے:
این ایچ اے کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو اربوں روپے کے نقصان کے بعد تحقیقات کرنے کے بجائے نقصان ہونے سے پہلے اسے روک سکے۔
شہریار سلطان کی برطرفی
این ایچ اے کے چیئرمین شہریار سلطان کو نومبر 2025 میں عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن منتقل کیا گیا۔
اس تبدیلی نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی کہ اسی دور میں این ایچ اے کے منصوبوں اور انتظامی معاملات سے متعلق مختلف سوالات اور تحقیقات سامنے آ رہی تھیں۔
قابل اعتماد رپورٹنگ کے مطابق ان کی تبدیلی کے پس منظر میں 170 ارب روپے کے CAREC Tranche-III منصوبے سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا معاملہ بھی زیر بحث رہا، جبکہ بعض سینئر این ایچ اے افسران پہلے ہی معطل کیے جا چکے تھے۔
ملازمین، ٹھیکیدار اور کنسلٹنٹس — تینوں کیوں پریشان؟
موجودہ صورت حال میں بے چینی صرف ملازمین تک محدود نہیں۔
ملازمین
رائٹ سائزنگ، ملازمتوں کے مستقبل، پیشہ ورانہ مواقع اور انتظامی رویوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ٹھیکیدار
منظوریوں کے طریقہ کار، ٹینڈرز، ادائیگیوں، انتظامی تسلسل اور فیصلہ سازی کے بارے میں واضح اور مستحکم نظام چاہتے ہیں۔
کنسلٹنٹس
پیشہ ورانہ مشورے کو میرٹ پر اہمیت دیے جانے اور تکنیکی فیصلوں کے غیر ضروری انتظامی اثرات سے محفوظ رکھنے کے خواہاں ہیں۔
تینوں کے مفادات مختلف ہیں، لیکن تشویش کا مشترکہ نکتہ یہ ہے:
اصلاحات ضرور ہوں — مگر من مانی اصلاحات نہیں۔
PWD، PIA اور بجلی کمپنیوں کا تجربہ کافی نہیں؟
پاکستان پہلے ہی سرکاری اداروں کے طویل بحرانوں کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔
پی ڈبلیو ڈی۔
پی آئی اے۔
بجلی کی کمپنیاں۔
ان اداروں کے تجربات سے ایک سبق بار بار سامنے آتا ہے:
کمزور گورننس،
سیاسی یا غیر پیشہ ورانہ مداخلت،
مالی بے قاعدگیاں،
جوابدہی کا فقدان،
ادارہ جاتی انتشار
اور
پیشہ ورانہ صلاحیت میں کمی
بالآخر پورے ادارے کو کمزور کر دیتی ہے۔
کیا پاکستان کو ایک اور ایسا تجربہ درکار ہے؟
نہیں۔
این ایچ اے کو اگلی قومی ادارہ جاتی ناکامی بننے سے روکنا ہوگا۔
اصل خطرہ رائٹ سائزنگ نہیں
اصلاحات بذات خود مسئلہ نہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب:
ضروری مہارت ختم کر دی جائے مگر متبادل صلاحیت پیدا نہ کی جائے؛
اختیارات مرکز میں جمع کر دیے جائیں مگر نگرانی کمزور ہو؛
آؤٹ سورسنگ کی جائے مگر جواب دہی واضح نہ ہو؛
کمیٹیاں بنائی جائیں مگر قانونی اختیارات مبہم ہوں؛
تعیناتیاں کی جائیں مگر میرٹ اور کارکردگی کے پیمانے واضح نہ ہوں؛
اور
متنازع یا ناکام کرداروں کو صرف ایک کرسی سے دوسری کرسی منتقل کر دیا جائے۔
یہ اصلاحات نہیں — ادارہ جاتی ری سائیکلنگ ہے۔
خالی پوسٹ کا خاتمہ یا قومی انسانی سرمائے کا ضیاع؟
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئرز، ایم بی اے، فنانس پروفیشنلز، مینجمنٹ ایکسپرٹس، آئی ٹی ماہرین اور مارکیٹنگ اسپیشلسٹس روزگار کے مواقع کے منتظر ہیں، این ایچ اے کو ایک مثال قائم کرنی چاہیے:
ضرورت کی پوسٹ ختم نہ کی جائے — اسے اہل ترین پاکستانی سے پُر کیا جائے۔
شفاف مقابلے کے ذریعے۔
میرٹ کی بنیاد پر۔
کھلے اشتہار کے ذریعے۔
قابلِ پیمائش کارکردگی کے ساتھ۔
غیر ضروری پوسٹ ختم کریں — ضروری صلاحیت نہیں۔
شہباز شریف حکومت کے لیے اصل امتحان
وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے سامنے دو راستے ہیں۔
اندھی رائٹ سائزنگ:
کتنی پوسٹیں ختم کی جا سکتی ہیں؟
یا:
دانشمندانہ رائٹ سائزنگ:
کون سے فرائض غیر ضروری ہیں، کون سے ضروری ہیں، کہاں مہارت کی کمی ہے، اور پاکستان کے دستیاب اعلیٰ تعلیم یافتہ انسانی سرمائے کو ان ضروریات کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
پہلا طریقہ محض اعداد کم کرتا ہے۔
دوسرا ادارہ مضبوط کرتا ہے۔
تاریخ عہدے نہیں، نتائج یاد رکھتی ہے
کچھ برس بعد کسی کو یاد نہیں ہوگا کہ کتنی خالی پوسٹیں ختم کی گئیں۔
یاد یہ رکھا جائے گا:
کیا این ایچ اے زیادہ مؤثر ہوا؟
کیا آمدن 500 ارب روپے تک پہنچی؟
کیا ٹول لیکیج ختم ہوئی؟
کیا واجبات وصول ہوئے؟
کیا مالی بے ضابطگیاں کم ہوئیں؟
کیا پیشہ ورانہ صلاحیت بڑھی؟
کیا نوجوانوں کو روزگار ملا؟
کیا ملازمین کا مورال بہتر ہوا؟
کیا گورننس مضبوط ہوئی؟
یا پھر:
کم آسامیاں،
زیادہ مرکزیت،
مایوس ملازمین،
پریشان ٹھیکیدار،
نظر انداز پیشہ ورانہ مشورے
اور
کمزور ادارہ
باقی رہ گیا؟
عوام کے سوالات:
وزیراعظم شہباز شریف سے:
کیا قومی شاہراہ اتھارٹی کی پیشہ ورانہ طور پر ضروری خالی آسامیوں کو ختم کرنا پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ انسانی سرمائے کے بہترین استعمال کا راستہ ہے؟
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے:
اگر این ایچ اے کو 500 ارب روپے سالانہ آمدن حاصل کرنا ہے تو ضروری پیشہ ورانہ آسامیوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں میرٹ پر اہل پاکستانیوں سے کیوں نہ پُر کیا جائے؟
آفیشیٹنگ سیکرٹری مواصلات علی شیر محسود سے:
کیا حکومت ہر قسم کی ختم کی جانے والی این ایچ اے پوسٹ کے بارے میں واضح فنکشنل جواز سامنے لائے گی اور بتائے گی کہ کم افرادی قوت کے ساتھ 500 ارب روپے سالانہ آمدن اور دیگر بڑے اہداف کیسے حاصل کیے جائیں گے؟
اور حکومت سے مجموعی سوال:
کیا یہ حقیقی اصلاحات ہیں یا صرف ان لوگوں کی تعداد کم کرنا ہے جو نظام میں میرٹ پر داخل ہو سکتے ہیں؟
این ایچ اے کو کم لوگ نہیں، درست لوگ چاہئیں
این ایچ اے کو ضرورت ہے:
درست انجینئرز کی۔
درست فنانس ماہرین کی۔
درست کمرشل ماہرین کی۔
درست آئی ٹی ماہرین کی۔
درست پروکیورمنٹ ماہرین کی۔
درست پروجیکٹ مینیجرز کی۔
درست اثاثہ جات مینجمنٹ ماہرین کی۔
اور سب سے بڑھ کر:
درست گورننس کی۔
اگر کسی فرد کے خلاف مجاز فورم پر کرپشن، بدعنوانی، سنگین غفلت، مفادات کے ٹکراؤ یا دانستہ عدم کارروائی ثابت ہو تو قانونی دائرے میں:
عہدے سے ہٹایا جائے۔
جوابدہی کی جائے۔
اور جہاں قانون اجازت دے، مستقبل کی حساس ذمہ داریوں سے نااہل قرار دیا جائے۔
بار بار تبادلے احتساب کا متبادل نہیں۔
آخری سوال — اور سب سے اہم سوال
پاکستان نے پہلے ہی:
پی ڈبلیو ڈی،
پی آئی اے،
اور
بجلی کے شعبے
میں ادارہ جاتی بحرانوں کی قیمت ادا کی ہے۔
کیا یہ سبق کافی نہیں؟
این ایچ اے آج ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اسے پاکستان کا ماڈل پبلک سیکٹر انفراسٹرکچر ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔
500 ارب روپے سالانہ آمدن کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اربوں روپے کے اثاثے بہتر طور پر کمرشلائز کیے جا سکتے ہیں۔
ٹول اور رائٹ آف وے آمدن محفوظ کی جا سکتی ہے۔
پیشہ ورانہ استعداد بڑھائی جا سکتی ہے۔
اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
مگر اس کے لیے ایک شرط ہے:
ادارہ افراد سے بڑا ہونا چاہیے۔
قانون شخصیات سے بڑا ہونا چاہیے۔
میرٹ ذاتی پسند سے بڑا ہونا چاہیے۔
اور احتساب عہدے سے بڑا ہونا چاہیے۔
اگر کسی ’’چند پسندیدہ‘‘ گروہ کے بارے میں اٹھنے والے سوالات مجاز فورمز پر ثابت ہو جاتے ہیں تو ان کے لیے بھی وہی قانون ہونا چاہیے جو ہر دوسرے سرکاری ملازم کے لیے ہے۔
کوئی شخص ناگزیر نہیں۔
کوئی عہدہ احتساب سے بالاتر نہیں۔
اور کوئی کامیاب قومی ادارہ ذاتی وفاداریوں کے تجربات کے لیے قربان نہیں کیا جا سکتا۔
این ایچ اے کو میوزیکل چیئرز نہیں چاہئیں۔
این ایچ اے کو میرٹ، مہارت، دیانت اور جواب دہ قیادت چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر:
روزگار کے منتظر نوجوانوں کے لیے دروازے بند نہیں، کھلے ہونے چاہئیں۔
غیر ضروری آسامیاں ختم کریں — مگر ضروری قومی صلاحیت نہیں۔
اصلاحات کریں — مگر ادارے کو کمزور کیے بغیر۔
اختیارات دیں — مگر جواب دہی کے ساتھ۔
500 ارب کا ہدف دیں — مگر اسے حاصل کرنے والے اہل افراد بھی فراہم کریں۔
اور اگر واقعی ایسا نظام بن رہا ہے جہاں طاقتور افراد کو ہی نگرانی سونپی جا رہی ہو تو قوم کا سوال بالکل سادہ ہے:
دودھ کی رکھوالی پر بلیاں کیوں؟
ایک کامیاب قومی ادارے کو ناکامی کی طرف نہ دھکیلا جائے۔
این ایچ اے کو ذاتی وفاداری نہیں، ادارہ جاتی وفاداری چاہیے۔
این ایچ اے کو عہدہ دار نہیں، اہل کار چاہیے۔
این ایچ اے کو خاموش ملازم نہیں، باعزت اور باصلاحیت ٹیم چاہیے۔
اور پاکستان کو ایک اور PWD، PIA یا پاور سیکٹر نہیں — ایک کامیاب، خود کفیل اور جواب دہ NHA چاہیے۔
تحقیقاتی انکشاف
رانا تصدق حسین
نیشنل ہائی وے اتھارٹی زیرِنگرانی — روزگار • رائٹ سائزنگ • 500 ارب آمدن • گورننس • احتساب
ذرائع: یہ تحقیقاتی رپورٹ جہاں قابل اطلاق ہو، سرکاری ریکارڈ، این ایچ اے کی دستاویزات، حکومتی اعلانات، پارلیمانی کارروائی، آڈٹ مشاہدات اور دیگر قابل تصدیق و معتبر دستاویزی ذرائع پر مبنی ہے۔ کسی فرد کے خلاف الزام کو مجاز فورم سے ثابت ہونے تک حتمی جرم یا بدعنوانی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔