این ایچ اے کے تجارتی اثاثے اور اخراجات

آئی ایم ایف کی وارننگ، 205 ارب روپے کے ایم 13 منصوبے کا ٹھیکہ بھی سوالیہ نشان بن گیا

رول 42(ایف)، مذاکراتی ٹینڈرنگ، سرکاری ملکیتی ٹھیکیدار، این ایچ اے کے تجارتی اثاثے اور موٹروے پولیس کے اخراجات پر سنگین سوالات

تحریر: رانا تصدق حسین

اسلام آباد — بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں سرکاری اداروں کی جانب سے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے حکومتی ملکیتی اداروں کو براہِ راست دینے کے طرزِ عمل پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے معاہدے صرف محدود، غیر معمولی اور ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر ہی کیے جانے چاہئیں۔ آئی ایم ایف کے اس مؤقف نے پاکستان کے موجودہ سرکاری خریداری نظام، بالخصوص رول 42(ایف) اور نام نہاد مذاکراتی ٹینڈرنگ کو ایک مرتبہ پھر شدید جانچ پڑتال کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

اس تناظر میں تقریباً 205 ارب روپے کے کھاریاں، راولپنڈی موٹروے (ایم 13) کا منصوبہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر بین الاقوامی مسابقتی بولی کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا، تاہم بعدازاں اسے مذاکراتی بنیادوں پر ایک سرکاری ملکیتی ٹھیکیدار کو دینے کی سمت پیش رفت ہوئی۔

ایم 13: مسابقتی بولی سے مذاکراتی ٹھیکے تک

ایم 13 منصوبے کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا مسابقتی بولی کا عمل ترک کرنے کے لیے پیش کی جانے والی وجوہات واقعی رول 42(ایف) کے قانونی تقاضوں پر پوری اترتی ہیں یا اس شق کو کسی مخصوص ادارے کو ٹھیکہ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

رول 42(ایف) مخصوص حالات میں سرکاری ملکیتی پیشہ ور، خودمختار یا نیم خودمختار اداروں سے وقت کی نزاکت اور مفادِ عامہ کے حامل کام براہِ راست کرانے کی گنجائش فراہم کرتا ہے، تاہم یہ عام مسابقتی طریقۂ کار کا متبادل نہیں بلکہ ایک استثنائی طریقہ ہے۔

205 ارب روپے سے زائد مالیت کے منصوبے میں متعلقہ حکام سے یہ واضح ہونا ناگزیر ہے کہ:

  • مسابقتی عمل ترک کرنے کی ٹھوس وجہ کیا تھی؟
  • کھلی مسابقتی بولی ناقابلِ عمل کیوں قرار دی گئی؟
  • سرکاری ملکیتی ٹھیکیدار کے انتخاب کی بنیاد کیا بنی؟
  • لاگت اور ویلیو فار منی کا آزادانہ جائزہ کس سطح پر کیا گیا؟
  • مذاکراتی قیمت کو مارکیٹ ریٹس سے کس طرح جانچا گیا؟
  • براہِ راست یا مذاکراتی ٹھیکے کی قانونی اور مالی منظوری کس بنیاد پر دی گئی؟

’’مذاکراتی ٹینڈرنگ‘‘؛ اصل سوال طریقۂ کار کا

ایم 13 کے معاملے نے مذاکراتی ٹینڈرنگ کے تصور پر بھی اہم سوال اٹھا دیے ہیں۔

مسابقتی عمل مکمل ہونے کے بعد کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ مخصوص شرائط پر مذاکرات اور پہلے سے کسی ادارے کا انتخاب کرکے بعد میں اسی کے ساتھ معاہدے کی شرائط طے کرنا، دونوں مختلف معاملات ہیں۔

اس لیے اصل مسئلہ اصطلاح نہیں بلکہ مسابقت کا حقیقی وجود ہے۔

اگر کسی منصوبے کے لیے پہلے ہی ایک مخصوص ٹھیکیدار کا انتخاب کرلیا جائے اور اس کے بعد قیمت اور شرائط مذاکرات کے ذریعے طے ہوں تو متعلقہ ادارے پر یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ اس طریقۂ کار سے قومی خزانے کو وہی یا اس سے بہتر مالی فائدہ حاصل ہوا جو کھلی مسابقت کے ذریعے ممکن تھا۔

40 فیصد ذیلی ٹھیکے کی حد؛ اہم حفاظتی اقدام

آئی ایم ایف کی جانب سے مجوزہ خریداری اصلاحات میں براہِ راست سرکاری ادارے کو دیے جانے والے ٹھیکوں میں ذیلی ٹھیکوں (Subcontracting) کی حد 40 فیصد مقرر کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کوئی سرکاری ملکیتی ادارہ براہِ راست ٹھیکہ حاصل کرکے محض واسطہ نہ بن جائے اور منصوبے کا بیشتر حصہ نجی شعبے کو منتقل نہ کردے۔

205 ارب روپے کے منصوبے میں 40 فیصد بھی انتہائی بڑی رقم بنتی ہے، اس لیے مکمل شفافیت کے لیے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ اصل کام کون کرے گا، ذیلی ٹھیکے کن اداروں کو دیے جائیں گے، کن نرخوں پر دیے جائیں گے اور مرکزی ٹھیکیدار کے پاس کتنا کام اور مالی مارجن باقی رہے گا۔

این ایچ اے کے اثاثے؛ آمدن کا ذریعہ یا غیر استعمال شدہ مالی اثاثہ؟

یہ معاملہ صرف ٹھیکوں تک محدود نہیں بلکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی مالی خود کفالت اور تجارتی اثاثوں کے استعمال سے بھی جڑا ہوا ہے۔

این ایچ اے کے پاس وسیع رقبے، عمارات، رائٹ آف وے، سروس ایریاز، ریسٹ ایریاز، اشتہاری مقامات اور دیگر ایسے اثاثے موجود ہیں جن سے ٹول کے علاوہ تجارتی آمدن حاصل کی جاسکتی ہے۔

ایسے وقت میں جب این ایچ اے کو سڑکوں کی تعمیر، بحالی اور مرمت کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہیں، اس کے قیمتی اثاثوں کا ہر ممکنہ تجارتی استعمال اہمیت رکھتا ہے۔

لہٰذا اگر این ایچ اے کے اثاثے دیگر سرکاری اداروں کے زیرِ استعمال ہوں تو ان کی کرایہ داری، مالی قدر، واجبات اور وصولیوں کا شفاف حساب ہونا چاہیے تاکہ اتھارٹی اس ممکنہ آمدن سے محروم نہ رہے۔

موٹروے پولیس کے اخراجات اور اے جی پی آر کا مالی ریکارڈ

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) سے متعلق مالی معاملات بھی سوالات کی زد میں آ گئے ہیں، بالخصوص یہ معاملہ کہ آیا پولیس سے متعلق ایسے اخراجات جو وفاقی حکومت کے ذمہ ہونے چاہئیں، براہِ راست یا بالواسطہ این ایچ اے کے وسائل، بشمول سڑکوں کی مرمت کے فنڈز سے پورے کیے گئے۔

اس حوالے سے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں، متعلقہ بجٹ ہیڈز، منظوریوں، ریلیزز اور ایڈجسٹمنٹس کا مکمل مالی ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہے۔

اگر این ایچ اے کے وسائل کسی دوسرے سرکاری ادارے کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں تو اس کے لیے واضح قانونی اختیار اور بجٹ کے تحت مجاز منظوری کی نشاندہی بھی لازم ہے۔

سرکاری ملکیتی لاجسٹکس ادارے کو ٹیکس اور ریگولیٹری رعایتیں؟

ایک اور اہم سوال سرکاری ملکیتی لاجسٹکس کیریئر کو مبینہ طور پر حاصل ٹیکس یا مالی رعایتوں کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔

اگر کسی سرکاری ملکیتی ادارے کو ایسی ٹیکس سہولت حاصل ہو جو نجی شعبے کے اسی نوعیت کے اداروں کو دستیاب نہ ہو تو اس رعایت کی واضح قانونی بنیاد، اس کے مالی اثرات اور مسابقتی مساوات پر اس کے اثرات سامنے آنا ضروری ہیں۔

اصولی طور پر صرف سرکاری ملکیت کسی ادارے کو خودکار طور پر ایسی مالی یا ریگولیٹری برتری نہیں دینی چاہیے جو قانون میں واضح طور پر فراہم نہ کی گئی ہو۔

اوورلوڈنگ اور وزن؛ قانون سب کے لیے یکساں کیوں نہ ہو؟

اسی طرح بھاری گاڑیوں کے وزن اور ایکسل لوڈ کی پابندیوں کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

حکومت خود ملک بھر میں اوورلوڈنگ کے خلاف کارروائی، ویئنگ اسٹیشنز اور سخت نفاذ پر زور دے رہی ہے۔ ایسے میں اگر کسی سرکاری ملکیتی لاجسٹکس کیریئر یا کسی مخصوص زمرے کی مال بردار گاڑیوں کو لازمی وزن چیکنگ سے استثنیٰ حاصل ہونے کا دعویٰ موجود ہے تو اس کی قانونی بنیاد واضح کرنا ضروری ہے۔

اصول سادہ ہونا چاہیے:

جو بھی گاڑی عوامی وسائل سے تعمیر اور برقرار رکھی جانے والی سڑک استعمال کرے، اس پر ایکسل لوڈ اور وزن کی پابندیاں یکساں لاگو ہوں۔

اگر کسی مخصوص ادارے کو استثنیٰ حاصل ہے تو اس کی واضح قانونی منظوری اور وجوہات عوام کے سامنے ہونی چاہئیں۔

وزارتِ مواصلات؛ پالیسی نگرانی یا آپریشنل مداخلت؟

اس پورے معاملے میں وزارتِ مواصلات کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

وزارت کی پالیسی سطح پر نگرانی اپنی جگہ، تاہم پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت قائم ایک خودمختار اتھارٹی کے آپریشنل، تعمیراتی، مرمتی، اثاثہ جاتی اور انتظامی معاملات میں مداخلت کی حدود بھی واضح ہونی چاہئیں۔

اصولی طور پر جس معاملے کی ذمہ داری قانون نے این ایچ اے کو سونپی ہے، اس میں فیصلہ سازی بھی اسی قانونی فریم ورک کے مطابق ہونی چاہیے۔

ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے، لیکن یہ رابطہ قانونی دائرۂ اختیار اور پارلیمانی قانون سازی سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔

اصل امتحان: استثنا قانون کا حصہ رہے، معمول نہ بنے

آئی ایم ایف کی حالیہ مداخلت نے پاکستان کے سرکاری خریداری نظام کے بنیادی سوال کو نمایاں کردیا ہے۔

رول 42(ایف) ہو، مذاکراتی ٹینڈرنگ ہو یا سرکاری ملکیتی ادارے کو براہِ راست ٹھیکہ — ہر استثنائی طریقۂ کار کو قانونی جواز، شفاف دستاویزات، مالی جانچ اور ویلیو فار منی کے کڑے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔

ایم 13 جیسے 205 ارب روپے سے زائد مالیت کے منصوبے میں یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ قومی خزانے کو بہترین ممکنہ مالی فائدہ حاصل ہوا، مسابقت کو غیر ضروری طور پر ختم نہیں کیا گیا اور ٹھیکے کے اصل نفاذ، ذیلی ٹھیکوں اور اخراجات کا مکمل ریکارڈ قابلِ جانچ ہے۔

اسی طرح این ایچ اے کے اثاثوں، اس کی غیر ٹول آمدن، این ایچ ایم پی سے متعلق اخراجات، اے جی پی آر کے ذریعے مالی ایڈجسٹمنٹس اور سرکاری ملکیتی لاجسٹکس اداروں کو مبینہ مالی یا ریگولیٹری سہولتوں کے معاملات بھی قانون اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر واضح کیے جانے چاہئیں۔

آئی ایم ایف کی وارننگ کا بنیادی پیغام یہی ہے:

سرکاری ملکیت، مسابقتی خریداری کا متبادل نہیں بن سکتی۔

اور ایم 13 اب محض ایک موٹروے منصوبہ نہیں رہا؛ یہ اس امر کا اہم امتحان بن چکا ہے کہ پاکستان کا نیا سرکاری خریداری نظام واقعی شفافیت، مسابقت، مالی ذمہ داری اور قومی خزانے کے بہترین مفاد کو ترجیح دیتا ہے یا استثنائی طریقۂ کار کو معمول بنانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں