گاڑی سے لاش برامد

راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس میں کھڑی گاڑی سے وکیل کی لاش برآمد
ایڈووکیٹ ثناء اللہ ستی پراسرار طور پر جاں بحق، قتل سمیت مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع، وکلاء کا جوڈیشل انکوائری اور سی سی ٹی وی محفوظ رکھنے کا مطالبہ
رپورٹ: رانا تصدق حسین
راولپنڈی_ 9 ستمبر 2026: راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس جیسے انتہائی حساس اور محفوظ عدالتی احاطے میں بدھ کی صبح ایک کھڑی گاڑی سے وکیل کی لاش برآمد ہونے کے واقعے نے قانونی برادری میں شدید تشویش اور اضطراب پیدا کر دیا، جبکہ پولیس نے واقعے کی وجوہات اور موت کے حالات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق متوفی کی شناخت ایڈووکیٹ ثناء اللہ ستی کے نام سے ہوئی ہے۔
صبح ساڑھے 9 بجے لاش کی موجودگی کا انکشاف
ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق واقعہ کا انکشاف تقریباً صبح 9 بج کر 30 منٹ پر ہوا۔
جوڈیشل کمپلیکس میں تعینات ایک محرر نے پارکنگ ایریا میں کھڑی ایک گاڑی کو مشکوک حالت میں دیکھا اور گاڑی کے اندر لاش موجود ہونے کا علم ہونے پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر سول لائنز پولیس کو دی گئی۔
راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس تھانہ سول لائنز کی حدود میں واقع ہے۔
پولیس نے علاقہ گھیرے میں لے لیا، فرانزک ٹیم طلب
اطلاع ملتے ہی سول لائنز پولیس کی بھاری نفری جوڈیشل کمپلیکس پہنچی اور پارکنگ ایریا کو گھیرے میں لے کر جائے وقوعہ کو محفوظ بنایا۔
بعد ازاں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی کرائم سین ٹیم کو طلب کیا گیا، جس نے گاڑی اور جائے وقوعہ کا فرانزک معائنہ شروع کیا اور ممکنہ شواہد اکٹھے کیے۔
لاش کو بعد ازاں پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
جسم پر تشدد اور خون کے نشانات؟ پولیس کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں
واقعے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس میں موجود وکلاء نے دعویٰ کیا کہ لاش پر تشدد کے نشانات اور خون بہنے کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔
تاہم پولیس نے تاحال جسم پر موجود مبینہ زخموں، ان کی نوعیت یا تشدد کے دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
مبینہ تشدد کی اطلاعات نے واقعے کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور اس امر پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ محض طبعی موت تھی یا معاملے میں کسی مجرمانہ کارروائی کا عنصر موجود ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز: فرانزک رپورٹ کے بعد موت کی وجہ معلوم ہوگی
ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب، جو تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں، نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ معلوم ہوگی۔
پولیس فی الوقت قتل اور طبعی موت دونوں پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے اور فرانزک و پوسٹ مارٹم رپورٹس موصول ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی۔
وکلاء کا شفاف تحقیقات اور جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
واقعے کی اطلاع پھیلتے ہی بڑی تعداد میں وکلاء جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے اور واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
وکلاء نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات کرائی جائیں اور پارکنگ سمیت جوڈیشل کمپلیکس کے متعلقہ حصوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج فوری طور پر محفوظ کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ اہم ثبوت کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
قانونی برادری نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ اتنے حساس عدالتی احاطے میں ایک شخص کی موت کیسے واقع ہوئی اور متعلقہ وقت کے دوران پارکنگ اور داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی انتظامات کس نوعیت کے تھے۔
جوڈیشل کمپلیکس کی سکیورٹی پر سنگین سوالات
جوڈیشل کمپلیکس کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی سے وکیل کی لاش ملنے کے واقعے نے محض موت کی وجہ ہی نہیں بلکہ عدالتی احاطے کے سکیورٹی نظام پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تحقیقات میں یہ پہلو بھی اہم ہوں گے کہ متوفی اور گاڑی کمپلیکس میں کب داخل ہوئے، گاڑی کی نگرانی کس نے کی، سی سی ٹی وی کیمروں نے کیا ریکارڈ کیا، متعلقہ وقت میں کون کون سے افراد اس علاقے میں موجود تھے اور آیا متوفی سے موت سے قبل کسی شخص نے ملاقات یا رابطہ کیا یا نہیں۔
ان سوالات کے جوابات فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی ریکارڈ، عینی شاہدین کے بیانات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں تلاش کیے جائیں گے۔
اعلیٰ عدالتی و انتظامی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان نہیں
رپورٹ کے وقت تک چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی، کمشنر راولپنڈی ڈویژن اور سی پی او راولپنڈی کے دفاتر کی جانب سے ایس ایس پی آپریشنز کی موقع پر دی گئی بریفنگ کے علاوہ کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
رواں سال وکیل کی موت کا دوسرا تشویشناک واقعہ
وکیل کی جوڈیشل کمپلیکس کے اندر موت کے واقعے نے رواں سال قانونی برادری کو پیش آنے والے ایک اور افسوسناک واقعے کی یاد بھی تازہ کر دی ہے۔
جنوری 2026 میں اسلام آباد کے ایچ نائن کے ایک ویران علاقے سے بھی ایک وکیل کی لاش برآمد ہوئی تھی، جس کی پشت پر گولی کا زخم موجود تھا۔ پولیس نے اس واقعے کو قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات کی تھیں۔
راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس میں تازہ واقعے کے بعد وکلاء کی جانب سے قانونی برادری کے تحفظ، سکیورٹی انتظامات اور ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات کے مطالبات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔
ایس ایس پی آپریشنز کی نگرانی میں تحقیقات جاری
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس کی نگرانی ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب کر رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ اور نوعیت کا حتمی تعین فرانزک معائنہ، پوسٹ مارٹم رپورٹ، شواہد اور دیگر تفتیشی نتائج کی روشنی میں کیا جائے گا۔
تاہم اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ:
راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس جیسے انتہائی حساس اور محفوظ عدالتی احاطے میں کھڑی گاڑی کے اندر ایک وکیل کی موت کیسے واقع ہوئی؟ کیا یہ ایک طبعی موت تھی یا اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ کارروائی کارفرما تھی؟
پولیس کی تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد، گاڑی اور جائے وقوعہ سے ملنے والے مواد، گواہوں کے بیانات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔