حبس بے جا کیس کی المناک کہانی
ننکانہ صاحب (بیورورپورٹ)ننکانہ پولیس کی کرپشن کے خلاف مہم پر بڑا سوالیہ نشان….۔۔۔۔۔۔۔ حبسِ بے جا کیس کے دونوں اہلکار عدالت سے ڈسچارج…۔۔۔پھرتیاں ۔۔۔چالاکیاں ۔۔۔بھرپور کاغذی کاروائیاں ۔۔۔۔۔ایس ایچ او کو بچانے کیلئے اسے مدعی مقدمہ بنایا گیا ۔۔۔۔۔ کانسٹیلان کو ایس ایچ او نے مکھن سے بال کی طرح نکال لیا ۔۔۔۔۔۔ کرپشن ختم پیسہ ہضم ۔۔۔۔۔۔۔۔وزیراعلی محترمہ مریم نواز شریف کے کرپشن کیخلاف مہم کو مذاق بنا ڈالا
مبینہ حبسِ بے جا کے الزام میں کانسٹیبلان افضل اور زین خالد کے خلاف مقدمہ، عدالت نے پولیس کا جوڈیشل ریمانڈ کا مطالبہ مسترد کر دیا۔۔۔مبینہ مغوی نے عدالت میں اغوا کی تردید کر دی۔۔۔پس منظر میں کیا ہے ۔۔۔
پنجاب حکومت کی کرپشن کے خلاف مہم کے دوران ننکانہ پولیس میں درج ہونے والے ایک مقدمہ کے نتائج نے پولیس کے خود احتسابی دعووں پر سوالات کھڑے کر دیے ۔۔۔۔تھانہ صدر ننکانہ میں کانسٹیبلان محمد افضل اور زین خالد کے خلاف شہری محمد عثمان عرف شانی کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے کے الزام میں درج مقدمے میں عدالت نے دونوں ملزمان کو ڈسچارج کر دیا۔
مبینہ مغوی محمد عثمان عرف شانی عدالت میں پیش ہوا اور بیان دیا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا۔ عدالتی حکم کے مطابق تفتیشی افسر نے بھی اس بیان کی تائید کی۔۔۔۔جس کے بعد استغاثہ کی کہانی مشکوک قرار پائی۔ ۔۔۔۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ ریکارڈ پر ملزمان کے خلاف ایسا کوئی قابلِ الزام مواد موجود نہیں جس کی بنیاد پر انہیں مزید حراست میں رکھا جا سکے۔۔۔۔چنانچہ دونوں اہلکاروں کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا گیا۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ 13 اگست 2026 کو پیش آنے والے مبینہ واقعہ کا مقدمہ 7 ستمبر 2026 کو درج کیا گیا، جس پر پولیس کے تفتیشی طریقہ کار اور ذمہ دار افسران کی نگرانی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر تھانے میں کسی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا تو متعلقہ تھانے کے سربراہ کو اس کا علم اتنے عرصے تک کیوں نہ ہو سکا۔۔اور کیا اس کی زمہ داری متعلقہ ایس ایچ او کی نہیں بنتی ۔۔۔
ذرائع کے مطابق پس منظر میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر نازیبا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے کا معاملہ جڑا ہوا ہے ۔۔۔۔ متاثرہ خاتون کی فیملی نے پولیس تھانہ صدر سے بذریعہ ٹاوٹس معاملات طے کئے جس کے مطابق پولیس نے خاتون کو بلیک میل کرنے والے محمد عثمان کو گرفتار کیا اور اس کے موبائل سے نازیبا ویڈیوز ڈیلیٹ کرکے ان کا مسئلہ حل کردیا ۔۔۔۔۔اب محمد عثمان کے سفارشیوں کو یہ کہہ کر کہ آپ کے لڑکے نے بہت بڑا جرم کیا ہے لیکن اس پر مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا اس کو لے جائیں اس طرح الزام علیہ پارٹی کو بھی خوش کر ڈالا ۔۔۔
دونوں فریقین راضی تھے ۔۔۔۔۔۔ لیکن ہوا ہوں کہ محمد عثمان کے قیمتی موبائل پر پولیس کا دل آ گیا اور اسے واپس نہ کیا گیا جس پر اس نے اعلی افسران کو موبائل واپسی کیلئے اپروچ کیا تو سارا معاملہ اعلی افسران کے نوٹس میں آیا ۔۔۔۔ چہیتے اور اس سارے گھن چکر کے زمہ دار ایس ایچ او کو بچانے کیلئے اسے مدعی بنا کر مبہم اور کمزور استغاثہ دے کر کانسٹیلان کیخلاف مقدّمہ درج کر کے قربانی کا بکرا بنایا گیا ۔ بعد ازاں ایس ایچ او نے مغوی مقدمہ کو راضی کر کے کانسٹیلان کو ڈسچارج کرواکر بکروں کو بھی قربان ہونے سے بچا لیا ۔۔۔۔
دلچسپ اور حیران کن طور پر جب مغوی عثمان اپنی آزاد رضا مندی سے کانسٹیلان کے حق میں بیان زیر دفعہ 161 ریکارڈ کروا رہا تھا تو وہ اس وقت بھی تھانہ صدر کی کی پولیس کی باقاعدہ حراست میں تھا ۔۔۔۔مطلب وہ بیچارا پھر سے گرفتار تھا لیکن بیان دے رہا تھا کہ اسے کسی نے حبس بے جا میں نہیں رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔تفتیشی آفیسر صاحب بھی تھانہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شہادتیں اکٹھی کرنے کی بجائے مغوی کا منحرف بیان لے کر بھاگا بھاگا عدالت گیا اور ملزمان کو ڈسچارج کروا کر مبارک بادیں وصول کرتا رہا ۔۔۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ اگر دو اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنا پولیس کی جانب سے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف کارروائی تھی تو عدالت میں اس مقدمے کے بنیادی الزام کی تائید میں مؤثر شواہد کیوں پیش نہ کیے جا سکے۔۔۔۔اور اگر الزام بے بنیاد تھا تو پھر دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔۔۔۔۔کیا اب ایس ایچ او مدعی مقدمہ پر معزز سرکاری ملازمین کیخلاف جھوٹے مقدمہ کے اندراج پر کاروائی کی جائے گی ۔۔۔۔۔ یقیناً نہیں ۔۔۔
واضح ہے کہ پنجاب حکومت کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ننکانہ میں محض مقدمات درج کر کے اور تشہیری خبریں جاری کر کے کرپشن کے خلاف کارروائی کا تاثر دینے سے زیادہ کچھ نہیں ہے